12 اگست 2026 - 17:47
اسرائیل نے 1700 فلسطینی شہداء کے اجساد یرغمال بنا رکھے ہیں

تحریک آزادی فلسطین نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت 1700 سے زائد فلسطینی شہداء کے اجساد نامعلوم قبروں اور سرد خانوں میں رکھ کر ان کے اہل خانہ کو اپنے پیاروں کی تدفین کے حق سے محروم کر رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تحریک آزادی فلسطین نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے 1700 سے زائد فلسطینی شہداء کے اجساد مخصوص نمبروں والی قبروں اور سرد خانوں میں محفوظ کر رکھے ہیں۔ تحریک نے اس اقدام کو شہداء اور ان کے اہل خانہ کے خلاف جاری جرم، میت کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی اور بنیادی انسانی و قانونی اصولوں کی پامالی قرار دیا ہے۔

تحریک نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شہداء کے اجساد کو دباؤ اور سودے بازی کے لیے استعمال کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ انفرادی اقدامات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سرکاری پالیسی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد شہداء کے خاندانوں پر دباؤ ڈالنا، فلسطینی عوام کو انتقامی کارروائیوں کے ذریعے مرعوب کرنا اور شہداء کے اجساد کو سیاسی و سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

تحریک آزادی فلسطین نے واضح کیا کہ شہید کا جسدِ خاکی مذاکرات یا سودے بازی کا معاملہ نہیں اور ہر خاندان کو اپنے شہید کی میت واپس حاصل کرکے عزت و احترام کے ساتھ تدفین کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ اسرائیل اس حق کو کسی شرط یا دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت ایسی پالیسیوں کے ذریعے فلسطینی عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی اور نہ ہی اپنے جرائم کی حقیقت کو دنیا سے چھپا سکتی ہے۔

تحریک آزادی فلسطین نے اقوام متحدہ، عالمی ریڈ کراس کمیٹی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموشی ترک کریں، فلسطینی شہداء کے اجساد کی تحویل کے معاملے کی فوری تحقیقات کریں اور اسرائیل پر تمام زیرِ حراست اجساد کی شناخت، ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور انہیں بلاشرط ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

تحریک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ شہادت کے ساتھ انصاف کا حق ختم نہیں ہوتا، شہید کی حرمت اس کی شہادت کے لمحے پر ختم نہیں ہوتی اور اس کے اہل خانہ کا اپنے شہید کو آخری بار دیکھنے اور باعزت طریقے سے دفن کرنے کا حق ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha